مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 1455

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ يَسْأَلُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ مِمَّنْ أَنْتَ قَالَ أَنَا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ انْظُرُوا إِلَى هَذَا يَسْأَلُنِي عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هُمَا رَيْحَانَتِي مِنْ الدُّنْيَا

ابن ابی نعم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی آدمی نے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر محرم کسی مکھی کو ماردے تو کیا حکم ہے؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ اہل عراق آ کر مجھ سے مکھی مارنے کی بارے میں پوچھ رہے ہیں جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو (کسی سے پوچھے بغیر ہی) شہید کر دیا حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں نواسوں کے متعلق فرمایا تھا کہ یہ دونوں میری دنیا کے ریحان ہیں ۔

یہ حدیث شیئر کریں