مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 1487

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ الْعُمَرِيُّ حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ صَاحِبِ فَرَقِ الْأَرُزِّ فَلْيَكُنْ مِثْلَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا صَاحِبُ فَرَقِ الْأَرُزِّ قَالَ خَرَجَ ثَلَاثَةٌ فَغَيَّمَتْ عَلَيْهِمْ السَّمَاءُ فَدَخَلُوا غَارًا فَجَاءَتْ صَخْرَةٌ مِنْ أَعْلَى الْجَبَلِ حَتَّى طَبَّقَتْ الْبَابَ عَلَيْهِمْ فَعَالَجُوهَا فَلَمْ يَسْتَطِيعُوهَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ لَقَدْ وَقَعْتُمْ فِي أَمْرٍ عَظِيمٍ فَلْيَدْعُ كُلُّ رَجُلٍ بِأَحْسَنِ مَا عَمِلَ لَعَلَّ اللَّهَ تَعَالَى أَنْ يُنْجِيَنَا مِنْ هَذَا فَقَالَ أَحَدُهُمْ اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ وَكُنْتُ أَحْلُبُ حِلَابَهُمَا فَأَجِيئُهُمَا وَقَدْ نَامَا فَكُنْتُ أَبِيتُ قَائِمًا وَحِلَابُهُمَا عَلَى يَدِي أَكْرَهُ أَنْ أَبْدَأَ بِأَحَدٍ قَبْلَهُمَا أَوْ أَنْ أُوقِظَهُمَا مِنْ نَوْمِهِمَا وَصِبْيَتِي يَتَضَاغَوْنَ حَوْلِي فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُهُ مِنْ خَشْيَتِكَ فَافْرُجْ عَنَّا قَالَ فَتَحَرَّكَتْ الصَّخْرَةُ قَالَ وَقَالَ الثَّانِي اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَتْ لِي ابْنَةُ عَمٍّ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ مِمَّا خَلَقْتَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهَا فَسُمْتُهَا نَفْسَهَا فَقَالَتْ لَا وَاللَّهِ دُونَ مِائَةِ دِينَارٍ فَجَمَعْتُهَا وَدَفَعْتُهَا إِلَيْهَا حَتَّى إِذَا جَلَسْتُ مِنْهَا مَجْلِسَ الرَّجُلِ فَقَالَتْ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَفُضَّ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ فَقُمْتُ عَنْهَا فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّمَا فَعَلْتُهُ مِنْ خَشْيَتِكَ فَافْرُجْ عَنَّا قَالَ فَزَالَتْ الصَّخْرَةُ حَتَّى بَدَتْ السَّمَاءُ وَقَالَ الثَّالِثُ اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرَقٍ مِنْ أَرُزٍّ فَلَمَّا أَمْسَى عَرَضْتُ عَلَيْهِ حَقَّهُ فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهُ وَذَهَبَ وَتَرَكَنِي فَتَحَرَّجْتُ مِنْهُ وَثَمَّرْتُهُ لَهُ وَأَصْلَحْتُهُ حَتَّى اشْتَرَيْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرَاعِيَهَا فَلَقِيَنِي بَعْدَ حِينٍ فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ وَأَعْطِنِي أَجْرِي وَلَا تَظْلِمْنِي فَقُلْتُ انْطَلِقْ إِلَى ذَلِكَ الْبَقَرِ وَرَاعِيهَا فَخُذْهَا فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَسْخَرْ بِي فَقُلْتُ إِنِّي لَسْتُ أَسْخَرُ بِكَ فَانْطَلَقَ فَاسْتَاقَ ذَلِكَ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ خَشْيَةً مِنْكَ فَافْرُجْ عَنَّا فَتَدَحْرَجَتْ الصَّخْرَةُ فَخَرَجُوا يَمْشُونَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا ثَلَاثَةُ رَهْطٍ يَتَمَاشَوْنَ أَخَذَهُمْ الْمَطَرُ فَأَوَوْا إِلَى غَارٍ فِي جَبَلٍ فَبَيْنَمَا هُمْ فِيهِ حَطَّتْ صَخْرَةٌ مِنْ الْجَبَلِ فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمْ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَ مَعْنَاهُ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے جو شخص " چاول ناپنے والے " کی طرح بننے کی استطاعت رکھتا ہو وہ ویسا بن جائے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! چاول ناپنے والے سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین آدمی سفر پر روانہ ہوئے، راستے میں آسمان پر ابر چھا گیا ( اور بارش ہو گئی) یہ لوگ(بارش سے بچنے کے لئے ) ایک غار میں داخل ہو گئے اسی اثنا میں پہاڑ کے اوپر ایک چٹان نیچے گری اور غار کا دہانہ بند ہو گیا انہوں نے اس چٹان کو ہٹانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ اسے ہٹا نہ سکے، تھک ہار کر ان میں سے ایک نے دوسروں سے کہا کہ اب تو تم لوگ ایک بہت بڑی مصیبت میں پھنس گئے ہو۔ اس سے نجات کی صورت یہی ہے کہ ہر شخص اپنے سب سے بہترین عمل کے وسیلے سے دعاء کرے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مصیبت سے نجات عطاء فرمادے۔ چنانچہ ان میں سے ایک بولاکہ اے اللہ! آپ جانتے ہیں کہ میرے والدین بہت زیادہ بوڑھے ہو چکے تھے میری عادت تھی کہ میں دودھ دوہ کر سب سے پہلے انہیں پلاتا تھا ایک دن میں جب اپنے گھر آیا تو وہ دونوں سوچکے تھے میں نے دودھ کا برتن ہاتھ میں پکڑے پکڑے ساری رات کھڑے ہو کر گذاردی، میں نے ان سے کسی کو دودھ دینا یا انہیں جگانا گوارا نہ کیا میرے بچے آس پاس ایڑیاں رگڑ رہے تھے اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام صرف تیرے خوف سے کیا تھا تو ہم پر " کشادگی " فرما، اس پر وہ چٹان ذرا سی سرک گئی۔ دوسرا بولاکہ اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میری ایک چچازاد بہن تھی پوری مخلوق میں مجھے اس سے زیادہ کسی سے محبت نہ تھی، میں نے اس سے اپنے آپ کو " حوالے " کرنے کے لئے کہا تو وہ کہنے لگی بخدا! سو دینار کے بغیر نہیں ، میں نے سو دینار جمع کئے اور اس کے حوالے کردیئے، جب میں اس کے پاس جا کر اس طرح بیٹھا جیسے مرد بیٹھتا ہے تو وہ کہنے لگی کہ اللہ سے ڈر، اور مہر کو ناحق نہ توڑ، میں یہ سنتے ہی اس وقت کھڑا ہو گیا ، اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ عمل صرف تیرے خوف کی وجہ سے کیا تھا تو ہم پر کشادگی فرما، اس پر وہ چٹان تھوڑی سی مزید سرک گئی اور آسمان نظر آنے لگا۔
تیسرابولا اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں نے چاولوں کے ایک فرق(وزن) کے عوض ایک مزدور سے مزدوری کروائی تھی، جب شام ہوئی تو میں نے اسے اس کا حق دینا چاہا لیکن اس نے وہ لینے سے انکار کردیا اور مجھے چھوڑ کر چلا گیا ، میں نے اس کی مزدوری کوالگ کرکے رکھ لیا، اسے بڑھاتارہا اور اس کی دیکھ بھال کرتا رہا، یہاں تک کہ میں نے اس سے ایک گائے اور اس کا چرواہاخرید لیا، کچھ عرصے بعد وہ مزدور مجھے ملا اور کہنے لگا کہ اللہ سے ڈر اور میری مزدوری مجھے دے دے اور مجھ پر ظلم نہ کر، میں نے اس سے کہا کہ وہ گائے اور اس کا چرواہا اپنے ساتھ لے جا، وہ کہنے لگا کہ اللہ سے ڈر اور میرے ساتھ مذاق نہ کر، میں نے اس سے کہا کہ میں تیرے ساتھ مذاق نہیں کررہا، چنانچہ وہ گیا اور اپنے ساتھ اسے ہانکتا ہوا لے کر چل پڑا، اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام صرف تیری رضاء حاصل کرنے کے لئے اور تیرے خوف کی وجہ سے کیا ہے تو ہم پر کشادگی فرما، اس پر وہ چٹان لڑھک کردوسری طرف چلی گئی اور وہ اس غار سے نکل کرباہرچلنے لگے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں