مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 1497

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا صَخْرٌ يَعْنِي ابْنَ جُوَيْرِيَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ عَامَ تَبُوكَ نَزَلَ بِهِمْ الْحِجْرَ عِنْدَ بُيُوتِ ثَمُودَ فَاسْتَسْقَى النَّاسُ مِنْ الْآبَارِ الَّتِي كَانَ يَشْرَبُ مِنْهَا ثَمُودُ فَعَجَنُوا مِنْهَا وَنَصَبُوا الْقُدُورَ بِاللَّحْمِ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهَرَاقُوا الْقُدُورَ وَعَلَفُوا الْعَجِينَ الْإِبِلَ ثُمَّ ارْتَحَلَ بِهِمْ حَتَّى نَزَلَ بِهِمْ عَلَى الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَشْرَبُ مِنْهَا النَّاقَةُ وَنَهَاهُمْ أَنْ يَدْخُلُوا عَلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ عُذِّبُوا قَالَ إِنِّي أَخْشَى أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سال قوم ثمود کے تباہ شدہ کھنڈرات اور گھروں کے قریب کسی جگہ پر صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ پڑاؤ ڈالا لوگوں نے ان کنوؤں سے پانی پیا جس سے قوم ثمود پانی پیتی تھی، اور اس سے آٹابھی گوندھا اور گوشت ڈال کر ہنڈیا بھی چڑھادیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر لوگوں نے ہنڈیاں الٹا دیں ، اور گندھا ہوا آٹا اونٹوں کو کھلادیا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے کوچ کر گئے اور اس کنوئیں پر جا کر پڑاؤ کیا جہاں سے حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی پانی پیتی تھی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عذاب یافتہ قوم کے کھنڈرات میں جانے سے منع کردیا اور فرمایا کہ مجھے اندیشہ ہے کہیں تم پر بھی وہی عذاب نہ آجائے جو ان پر آیا تھا ، اس لئے تم وہاں نہ جاؤ۔

یہ حدیث شیئر کریں