مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 1645

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ لَا يَزَالُ يُغْبَنُ فِي الْبُيُوعِ وَكَانَتْ فِي لِسَانِهِ لُوثَةٌ فَشَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَلْقَى مِنْ الْغَبْنِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَنْتَ بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ قَالَ يَقُولُ ابْنُ عُمَرَ فَوَاللَّهِ لَكَأَنِّي أَسْمَعُهُ يُبَايِعُ وَيَقُولُ لَا خِلَابَةَ يُلَجْلِجُ بِلِسَانِهِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انصار کا ایک آدمی تھاجسے بیع میں لوگ دھوکہ دیتے تھے اس کی زبان میں لکنت بھی تھی اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ساتھ ہونے والے دھوکے کی شکایت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم بیع کیا کرو تو تم یوں کہہ لیا کرو کہ اس بیع میں کوئی دھوکہ نہیں ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ واللہ یوں محسوس ہوتا ہے جسے اب بھی میں اسے بیع کرتے ہوئے " لا خلابہ " کہتے ہوئے سن رہا ہوں اور اس کی زبان اڑ رہی ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں