مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 1647

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى آلِ حَاطِبٍ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ تُوُفِّيَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَتَرَكَ ابْنَةً لَهُ مِنْ خُوَيْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ الْأَوْقَصِ قَالَ وَأَوْصَى إِلَى أَخِيهِ قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَهُمَا خَالَايَ قَالَ فَمَضَيْتُ إِلَى قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ أَخْطُبُ ابْنَةَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَزَوَّجَنِيهَا وَدَخَلَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ يَعْنِي إِلَى أُمِّهَا فَأَرْغَبَهَا فِي الْمَالِ فَحَطَّتْ إِلَيْهِ وَحَطَّتْ الْجَارِيَةُ إِلَى هَوَى أُمِّهَا فَأَبَيَا حَتَّى ارْتَفَعَ أَمْرُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قُدَامَةُ بْنُ مَظْعُونٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنَةُ أَخِي أَوْصَى بِهَا إِلَيَّ فَزَوَّجْتُهَا ابْنَ عَمَّتِهَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَلَمْ أُقَصِّرْ بِهَا فِي الصَّلَاحِ وَلَا فِي الْكَفَاءَةِ وَلَكِنَّهَا امْرَأَةٌ وَإِنَّمَا حَطَّتْ إِلَى هَوَى أُمِّهَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ يَتِيمَةٌ وَلَا تُنْكَحُ إِلَّا بِإِذْنِهَا قَالَ فَانْتُزِعَتْ وَاللَّهِ مِنِّي بَعْدَ أَنْ مَلَكْتُهَا فَزَوَّجُوهَا الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کے ورثاء میں ایک بیٹی تھی جو خویلہ بنت حکیم بن امیہ بن حارثہ بن الاوقص سے پیدا ہوئی تھی، انہوں نے اپنے بھائی حضرت قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ کو اپنا وصی مقرر کیا تھا یہ دونوں میرے ماموں تھے میں نے حضرت قدامہ رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے اپنے لئے پیغام نکاح بھیجاجوانہوں نے قبول کرلیا اور میرے ساتھ اس کی شادی کردی اسی دوران حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اس کی ماں کے پاس آئے اور اسے مال و دولت کا لالچ دیا اور پھسل گئی اور لڑکی بھی اپنی ماں کی رغبت کو دیکھتے ہوئے پھسل گئی اور دونوں نے اس رشتے سے انکار کردیا۔ بالآخریہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا حضرت قدامہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے اس نے مجھے خود اس کے متعلق وصیت کی تھی میں نے اس کا نکاح اس کے پھوپھی زادبھائی عبداللہ بن عمر سے کر دیا میں نے جوڑ تلاش کرنے میں اور بہتری و صلاح کو جانچنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی لیکن یہ بھی ایک عورت ہے اور اپنی ماں کی رغبت دوسری طرف دیکھتے ہوئے پھسل رہی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ یتیم بچی ہے، اس کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ واللہ اسے میری ملکیت میں آنے کے بعد مجھ سے چھین لیا گیا اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے اس کا نکاح کردیا گیا ۔

یہ حدیث شیئر کریں