حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَخِيهِ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ يَعْنِي أَبَا عُمَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ كُنَّا نُحَدَّثُ بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ وَلَا نَدْرِي أَنَّهُ الْوَدَاعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَأَطْنَبَ فِي ذِكْرِهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَهُ أُمَّتَهُ لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ أُمَّتَهُ وَالنَّبِيُّونَ مِنْ بَعْدِهِ أَلَا مَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ شَأْنِهِ فَلَا يَخْفَيَنَّ عَلَيْكُمْ أَنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ أَلَا مَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ شَأْنِهِ فَلَا يَخْفَيَنَّ عَلَيْكُمْ أَنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حجۃ الوداع سے پہلے اس کا تذکرہ کرتے تھے ہمیں یہ معلوم نہ تھا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے الوداعی ملاقات ہے اس حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران خطبہ " دجال " کا بھی خاصا تفصیلی ذکر کیا اور فرمایا کہ اللہ نے جس نبی کو بھی دنیا میں مبعوث فرمایا اس نے اپنی امت کوفتنہ دجال سے ضرور ڈرایا ہے حضرت نوح علیہ السلام نے بھی اپنی امت کو ڈرایا تھا اور ان کے بعد بھی تمام انبیاء کرام علیہم السلام ڈراتے رہے اگر تم پر کوئی بات مخفی رہ جائے تو تم پر یہ بات مخفی نہیں رہنی چاہئے کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ دہرایا۔
