مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 1815

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ قَالَ فَحَدَّثَنِي سَالِمٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ وَاللَّهِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام أَحْمَرُ قَطُّ وَلَكِنَّهُ قَالَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ سَبْطُ الشَّعَرِ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ يَنْطُفُ رَأْسُهُ أَوْ يُهَرَاقُ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا ابْنُ مَرْيَمَ قَالَ فَذَهَبْتُ أَلْتَفِتُ فَإِذَا رَجُلٌ أَحْمَرُ جَسِيمٌ جَعْدُ الرَّأْسِ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا الدَّجَّالُ أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ مِنْ بَالْمُصْطَلِقِ مَاتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بخداجناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق سرخ کا لفظ کبھی استعمال نہیں کیا انہوں نے یہ فرمایا تھا کہ میں نے ایک مرتبہ خواب میں خانہ کعبہ کے پاس گندمی رنگ اور سیدھے بالوں والے ایک آدمی کو دیکھا جس نے اپنا ہاتھ دو آدمیوں پر رکھا ہوا تھا اس کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ پتہ چلاکہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں پھر ان کے پیچھے میں نے سرخ رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے دائیں آنکھ سے کانے اور میری دید کے مطابق ابن قطن سے انتہائی مشابہہ شخص کو دیکھا میں نے پوچھا یہ کون ہے تو پتہ چلا یہ مسیح دجال ہے

یہ حدیث شیئر کریں