مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 1819

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ النَّجْرَانِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ ابْتَاعَ رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ نَخْلًا فَلَمْ يُخْرِجْ تِلْكَ السَّنَةَ شَيْئًا فَاجْتَمَعَا فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَ تَسْتَحِلُّ دَرَاهِمَهُ ارْدُدْ إِلَيْهِ دَرَاهِمَهُ وَلَا تُسْلِمُنَّ فِي نَخْلٍ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ فَسَأَلْتُ مَسْرُوقًا مَا صَلَاحُهُ قَالَ يَحْمَارُّ أَوْ يَصْفَارُّ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے کے لئے کھجور کے درخت میں بیع سلم کی لیکن اس سال پھل ہی نہیں آیا اس نے اپنے پیسے واپس لینا چاہے تو اس نے انکار کردیا وہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درختوں کے مالک سے پوچھا کہ کیا اس کے درختوں پر پھل نہیں آیا؟ اس نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر اس کے پیسے کیوں روک رکھے ہیں ؟چنانچہ اس نے اس کے پیسے لوٹادئیے اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل پکنے تک بیع سلم سے منع فرما دیا۔

یہ حدیث شیئر کریں