حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ قَالَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي أَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ مِنْ أَظْفَارِي ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالُوا فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْعِلْمُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَذَكَرَهُ
اور نبی کریم صلی اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ ایک مرتبہ خواب میں میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا میں نے اسے اتناپیا کہ میرے ناخنوں سے دودھ نکلنے لگا پھر میں نے اپنا پس خوردہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کودے دیا کسی نے پوچھا یا رسول اللہ آپ نے اس کی کیا تعبیر لی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علم۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
