مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 1861

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ أَوْ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ يَأْتِيَانِ النَّخْلَ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ حَتَّى إِذَا دَخَلَا النَّخْلَ طَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ ابْنَ صَيَّادٍ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا زَمْزَمَةٌ قَالَ فَرَأَتْ أُمُّهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ فَقَالَتْ أَيْ صَافِ وَهُوَ اسْمُهُ هَذَا مُحَمَّدٌ فَثَارَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَؤُمَّانِ النَّخْلَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو لے کر کھجوروں کے اس باغ میں گئے جہاں ابن صیادرہتا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس باغ میں داخل ہوئے توٹہنیوں کی آڑ میں چھپتے ہوئے چلنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ چپکے سے جا کر ابن صیاد کی کچھ باتیں قبل اس کے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھے سن لیں ابن صیاد اس وقت اپنے بستر پر ایک چادر میں لپٹا ہوا پڑا کچھ گنگنا رہا تھا ابن صیاد کی ماں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا کہ وہ ٹہنیوں اور شاخوں کی آڑ لے کر چلے آ رہے ہیں تو فوراًبول پڑی صافی (یہ اس کا نام تھا) یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آ رہے ہیں یہ سنتے ہی وہ کود کربیٹھ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ عورت اسے چھوڑ دیتی ( اور میرے آنے کی خبر نہ دیتی) تو یہ اپنی حقیقت ضرور واضح کر دیتا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں