مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 1899

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ وَصَفْوَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَجْلَانَ الْمَعْنَى عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ أَنَّ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ مَرْوَانَ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنْ ارْفَعْ إِلَيَّ حَاجَتَكَ قَالَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى وَإِنِّي لَأَحْسِبُ الْيَدَ الْعُلْيَا الْمُعْطِيَةَ وَالسُّفْلَى السَّائِلَةَ وَإِنِّي غَيْرُ سَائِلِكَ شَيْئًا وَلَا رَادٍّ رِزْقًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيَّ مِنْكَ

قعقاع بن حکیم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبدالعزیزبن مروان نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کوخط لکھا کہ آپ کی جو ضروریات ہیں وہ میرے سامنے پیش کردیجئے (تاکہ میں انہیں پوراکرنے کا حکم دوں ) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس خط کے جواب میں لکھا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور دینے میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جن کی پرورش تمہاری ذمہ داری میں ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اوپر والے ہاتھ سے مراد دینے والا ہاتھ ہے اور نیچے والے ہاتھ سے مراد مانگنے والا ہاتھ ہے میں تم سے کسی چیز کا سوال نہیں کرتا اور نہ ہی اس رزق کو لوٹاؤں گا جو اللہ مجھے تمہاری طرف سے عطاء فرمائے گا۔

یہ حدیث شیئر کریں