مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 1931

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيُّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ التَّيْمِيِّ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ إِنَّا نُكْرِي فَهَلْ لَنَا مِنْ حَجٍّ قَالَ أَلَيْسَ تَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ وَتَأْتُونَ الْمُعَرَّفَ وَتَرْمُونَ الْجِمَارَ وَتَحْلِقُونَ رُءُوسَكُمْ قَالَ قُلْنَا بَلَى فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ الَّذِي سَأَلْتَنِي فَلَمْ يُجِبْهُ حَتَّى نَزَلَ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام بِهَذِهِ الْآيَةِ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتُمْ حُجَّاجٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ يَعْنِي الْعَدَنِيَّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ إِنَّا قَوْمٌ نُكْرِي فَذَكَرَ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ أَسْبَاطٍ

ابوامامہ تیمی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ہم لوگ کرایہ پر چیزیں لیتے دیتے ہیں کیا ہمارا حج ہو جائے گا؟ انہوں نے فرمایا کیا تم بیت اللہ کا طواف نہیں کرتے؟ کیا تم میدان عرفات نہیں جاتے؟ کیا تم جمرات کی رمی اور حلق نہیں کرتے؟ ہم نے کہا کیوں نہیں ؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی ایک آدمی نے آ کر یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب نہ دیا یہاں تک کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے کہ تم پر کوئی حرج نہیں ہے اس بات میں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر جواب دیا کہ تم حاجی ہو۔ گذشتہ حدیث اس دوسروی سند سے بھی مروی ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں