مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 2010

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِي سَبْرَةَ قَالَ كَانَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَسْأَلُ عَنْ الْحَوْضِ حَوْضِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يُكَذِّبُ بِهِ بَعْدَمَا سَأَلَ أَبَا بَرْزَةَ وَالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ وَعَائِذَ بْنَ عَمْرٍو وَرَجُلًا آخَرَ وَكَانَ يُكَذِّبُ بِهِ فَقَالَ أَبُو سَبْرَةَ أَنَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ فِيهِ شِفَاءُ هَذَا إِنَّ أَبَاكَ بَعَثَ مَعِي بِمَالٍ إِلَى مُعَاوِيَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَحَدَّثَنِي مِمَّا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمْلَى عَلَيَّ فَكَتَبْتُ بِيَدِي فَلَمْ أَزِدْ حَرْفًا وَلَمْ أَنْقُصْ حَرْفًا حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ أَوْ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ وَالْمُتَفَحِّشَ

ابوسبرہ کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض کے متعلق مختلف حضرات سے سوال کرتا تھا اور باوجودیکہ وہ حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ سوال پوچھ چکا تھا لیکن پھر بھی حوض کوثر کی تکذیب کرتا تھا ایک دن میں نے اس سے کہا کہ میں تمہارے سامنے ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جس میں اس مسئلے کی مکمل شفاء موجود ہے تمہارے والد نے ایک مرتبہ کچھ مال دے کر مجھے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا میری ملاقات حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے ہوئی انہوں نے مجھ سے ایک حدیث بیان کی جو انہوں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی انہوں نے وہ حدیث مجھے املاء کروائی اور میں نے اسے اپنے ہاتھ سے کسی ایک حرف کی بھی کمی بیشی کے بغیر لکھا۔
انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ بے تکلف یا بتکلف کسی قسم کی بے حیائی کو پسند نہیں کرتا

یہ حدیث شیئر کریں