مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 2025

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ الْتَقَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَهُوَ يَبْكِي فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي هَذَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِنْسَانٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ

ابوحیان اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوئی تھوڑی دیربعد جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ واپس آئے تو وہ رو رہے تھے لوگوں نے ان سے پوچھا اے ابوعبدالرحمن آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ فرمایا اس حدیث کی وجہ سے جو انہوں نے مجھ سے بیان کی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہو گا ۔

یہ حدیث شیئر کریں