مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 2058

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي سِنَانٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ حَدَّثَنِي شَيْخٌ قَالَ دَخَلْتُ مَسْجِدًا بِالشَّامِ فَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسْتُ فَجَاءَ شَيْخٌ يُصَلِّي إِلَى السَّارِيَةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ ثَابَ النَّاسُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو فَأَتَى رَسُولُ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا يُرِيدُ أَنْ يَمْنَعَنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ وَإِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ

ایک بزرگ کہتے ہیں کہ میں شام کی ایک مسجد میں داخل ہوا میں وہاں دو رکعتیں پڑھ کربیٹھا ہی تھا کہ ایک آدمی آیا اور ستون کی آڑ میں نماز پڑھنے لگے جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ ہیں اتنے میں ان کے پاس یزید کا قاصد آگیا حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہ یہ مجھے تم سے احادیث بیان کرنے سے منع کرنا چاہتا ہے اور تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اے اللہ میں نہ بھرنے والے نفس سے خشوع وخضوع سے خالی دل سے غیر نافع علم سے اور غیر مقبول دعاء سے تیری پناہ میں آتا ہوں اے اللہ میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ مانگتاہوں ۔

یہ حدیث شیئر کریں