مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 2148

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

قَالَ وَكُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا آخَرَ حِينَ طَلَعَتْ الشَّمْسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَأْتِي أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ نُورُهُمْ كَضَوْءِ الشَّمْسِ قُلْنَا مَنْ أُولَئِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ وَالَّذِينَ تُتَّقَى بِهِمْ الْمَكَارِهُ يَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ يُحْشَرُونَ مِنْ أَقْطَارِ الْأَرْضِ

اور ہم ایک دوسرے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس وقت سورج طلوع ہو رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن میری امت کے کچھ لوگ اس طرح آئیں گے کہ ان کا نور سورج کی روشنی کی طرح ہو گا ہم نے پوچھا یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہوں گے؟ فرمایا فقراء مہاجرین جن کے ذریعے ناپسندیدہ امور سے بچاجاتا ہے وہ لوگ اپنی ضروریات اپنے سینے میں ہی لے کر مر جاتے تھے انہیں زمین کے کونے کونے سے جمع کر لیا جائے گا۔

یہ حدیث شیئر کریں