مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 2256

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي قَالَ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ أَوْ أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ لَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلَأَصُومَنَّ النَّهَارَ قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ قُلْتُ ذَلِكَ قَالَ فَقُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ وَهُوَ صِيَامُ دَاوُدَ قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَقُولُ لَأَصُومَنَّ الدَّهْرَ وَلَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ مَا بَقِيتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ أَوْ قُلْتَ لَأَصُومَنَّ الدَّهْرَ وَلَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ مَا بَقِيتُ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ قَالَ فَقُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ فَإِنَّ الْحَسَنَةَ عَشْرُ أَمْثَالِهَا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم ہی ہو جس کے متعلق مجھے بتایا گیا ہے کہ تم کہتے ہو میں روزانہ رات کو قیام اور دن کو صیام کروں گا؟ عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ! میں نے ہی کہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیام بھی کیا کرو اور سویا بھی کرو روزہ بھی رکھو اور ناغہ بھی کیا کرو اور ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو تمہیں ساری زندگی روزے رکھنے کا ثواب ہو گا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھ میں اس سے زیادہ کرنے کی طاقت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ایک دن روزہ اور دو ناغہ کیا کرو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اس سے زیادہ افضل کی طاقت رکھتا ہوں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ایک دن روزہ اور ایک دن ناغہ کیا کرو، یہ روزہ کا معتدل ترین طریقہ ہے اور یہی حضرت داؤدعلیہ السلام کا طرییقہ صیام ہے میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے بھی افضل کی طاقت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ہے۔ حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چل گیا کہ میں کہتا ہوں میں ہمیشہ دن کو روزہ رکھوں گا اور رات کو قیام کروں گا ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم ہی ہو جو کہتے ہو روزانہ رات کو قیام اور دن کو صیام کروں گا؟ عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ میں نے ہی کہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کی طاقت نہیں رکھتے لہٰذا قیام بھی کیا کرو اور سویا بھی کرو روزہ بھی رکھو اور ناغہ بھی کیا کرو اور ہر مہینے میں صرف تین روزے رکھا کرو کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں