حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ وَيَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُكْتِبِ عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ فَإِنَّهُ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَمَرَهُمْ بِالظُّلْمِ فَظَلَمُوا وَأَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ فَقَطَعُوا وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا وَإِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ قَالَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ قَالَ فَقَامَ هُوَ أَوْ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ عَقَرَ جَوَادَهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ قَالَ أَبِي و قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ فِي حَدِيثِهِ ثُمَّ نَادَاهُ هَذَا أَوْ غَيْرُهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ وَهُمَا هِجْرَتَانِ هِجْرَةٌ لِلْبَادِي وَهِجْرَةٌ لِلْحَاضِرِ فَأَمَّا هِجْرَةُ الْبَادِي فَيُطِيعُ إِذَا أُمِرَ وَيُجِيبُ إِذَا دُعِيَ وَأَمَّا هِجْرَةُ الْحَاضِرِ فَهِيَ أَشَدُّهُمَا بَلِيَّةً وَأَعْظَمُهُمَا أَجْرًا
حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ظلم سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی صورت میں ہوگا بے حیائی سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ اللہ بے تکلف یا بتکلف کسی نوعیت کی بے حیائی پسند نہیں کرتا بخل سے بھی اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو بھی ہلاک کردیا تھا اسی بخل نے انہیں قطع رحمی کا راستہ دکھایا سو انہوں نے رشتے ناطے توڑ دیئے اسی بخل نے انہیں اپنی دولت اور چیزیں اپنے پاس سمیٹ کر رکھنے کا حکم دیاسو انہوں نے ایساہی کیا اسی بخل نے انہیں گناہوں کا راستہ دکھایا سو وہ گناہ کرنے لگے۔ اسی دوران ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ! کون سا مسلمان افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ دوسرے مسلمان جس کی زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں ایک اور آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ کون سا جہاد افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی گئی ہوں اور اس کا خون بہا دیا گیا ہو یزید کی سند سے روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ پھر ایک اور آدمی نے پکار کر پوچھا یا رسول اللہ! کون سی ہجرت افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ان چیزوں کو چھوڑ دو جو تمہارے رب کو ناگوار گذریں اور ہجرت کی دو قسمیں ہیں شہری کی ہجرت اور دیہاتی کی ہجرت دیہاتی کی ہجرت تو یہ ہے کہ جب اسے دعوت ملے تو قبول کر لے اور جب حکم ملے تو اس کی اطاعت کرے اور شہری کی آزمائش بھی زیادہ ہوتی ہے اور اس کا اجر بھی زیادہ ہوتا ہے۔
