مسند احمد ۔ جلد چہارم ۔ حدیث 1481

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا سُكَيْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ إِنِّي لَشَاهِدٌ لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَنَهَاهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا فِي هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ قَالَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ لَا ظُرُوفَ لَهُمْ قَالَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ يَرْثِي لِلنَّاسِ قَالَ فَقَالَ اشْرَبُوا مَا طَابَ لَكُمْ فَإِذَا خَبُثَ فَذَرُوهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں بنو عبدالقیس کے وفد کا عینی شاہد ہوں وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حنتم دباء مزفت اور نقیر نامی برتنوں میں مشروبات پینے سے منع فرمایا اس پر ان میں سے ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! لوگوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور برتن نہیں؟ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو ایسا محسوس ہوا کہ آپ کو لوگوں پر افسوس ہو رہا ہے پھر فرمایا اگر یہ برتن صاف ہوں تو ان میں پی لیا کرو اور اگر گندے ہوں تو چھوڑ دیا کرو۔

یہ حدیث شیئر کریں