مسند احمد ۔ جلد چہارم ۔ حدیث 2200

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَنْبَأَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِمِنًى يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَاضَاهُ فَأَغْلَظَ لَهُ قَالَ فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ فَقَالَ دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا قَالَ اشْتَرُوا لَهُ بَعِيرًا فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ قَالُوا لَا نَجِدُ إِلَّا سِنًّا أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ قَالَ فَاشْتَرُوهُ فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ فَإِنَّ مِنْ خَيْرِكُمْ أَحْسَنَكُمْ قَضَاءً

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے اونٹ کا تقاضا کرنے کے لئے آیا اور اس میں سختی کی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے مارنے کا ارادہ کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو کیونکہ حقداربات کرسکتا ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے فرمایا اس کے اونٹ جتنی عمر کا ایک اونٹ خرید کر لے آؤ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تلاش کیا لیکن مطلوبہ عمر کا اونٹ نہ مل سکا ہر اونٹ اس سے بڑی عمر کا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسے بڑی عمر کا ہی اونٹ خرید کر دے دو، تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو اداء قرض میں سب سے بہترین ہو۔

یہ حدیث شیئر کریں