مسند احمد ۔ جلد چہارم ۔ حدیث 3663

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ يُونُسُ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ مَلَكُ الْمَوْتِ يَأْتِي النَّاسَ عِيَانًا قَالَ فَأَتَى مُوسَى فَلَطَمَهُ فَفَقَأَ عَيْنَهُ فَأَتَى رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ يَا رَبِّ عَبْدُكَ مُوسَى فَقَأَ عَيْنِي وَلَوْلَا كَرَامَتُهُ عَلَيْكَ لَعَنُفْتُ بِهِ وَقَالَ يُونُسُ لَشَقَقْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ اذْهَبْ إِلَى عَبْدِي فَقُلْ لَهُ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى جِلْدِ أَوْ مَسْكِ ثَوْرٍ فَلَهُ بِكُلِّ شَعَرَةٍ وَارَتْ يَدُهُ سَنَةٌ فَأَتَاهُ فَقَالَ لَهُ مَا بَعْدَ هَذَا قَالَ الْمَوْتُ قَالَ فَالْآنَ قَالَ فَشَمَّهُ شَمَّةً فَقَبَضَ رُوحَهُ قَالَ يُونُسُ فَرَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَيْنَهُ وَكَانَ يَأْتِي النَّاسَ خُفْيَةً حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَيْهِ السَّلَام فَذَكَرَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ملک الموت پہلے سب کے سامنے آکر روح قبض کیا کرتے تھے چنانچہ جب وہ حضرت موسی علیہ السلام کی روح قبض کرنے کے لئے ان کے پاس پہنچے تو حضرت موسی علیہ السلام نے ایک طمانچہ مارا ان کی آنکھ پھوڑ دی وہ پروردگار کے پاس واپس جا کر کہنے لگے کہ آپ کے بندے نے میری آنکھ پھوڑ دی اگر آپ کی مہربانی ان پر نہ ہوتی تو میں بھی انہیں سخت جواب دیتا اللہ نے ان کی آنکھ واپس لوٹا دی اور فرمایا ان کے پاس واپس جا کر ان سے کہو کہ ایک بیل کی پشت پر ہاتھ رکھ دیں ان کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال أگئے ہر بال کے بدلے ان کی عمر میں ایک سال کا اضافہ ہو جائے گا حضرت موسی علیہ السلام نے پوچھا کہ اے پروردگار پھر کیا ہوگا فرمایا پھر موت آئے گی انہوں نے کہا تو پھر ابھی سہی چنانچہ ملک الموت نے انہیں کوئی چیز سونگھائی اور ان کی روح قبض کرلی۔
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں