مسند احمد ۔ جلد چہارم ۔ حدیث 3672

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانُوا يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ الْحَيَاءُ وَالْخَفَرُ فَكَانَ يَسْتَتِرُ إِذَا اغْتَسَلَ فَطَعَنُوا فِيهِ يُعَيِّرُوهُ قَالَ فَبَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ يَغْتَسِلُ يَوْمًا إِذْ وَضَعَ ثِيَابَهُ عَلَى صَخْرَةٍ فَانْطَلَقَتْ الصَّخْرَةُ فَاتَّبَعَهَا نَبِيُّ اللَّهِ ضَرْبًا بِالْعَصَا ثَوْبِي يَا حَجَرُ ثَوْبِي يَا حَجَرُ حَتَّى انْتَهَتْ بِهِ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَتَوَسَّطَتْهُمْ فَقَامَتْ فَأَخَذَ نَبِيُّ اللَّهِ ثِيَابَهُ فَنَظَرُوا إِلَى أَحْسَنِ النَّاسِ خَلْقًا وَأَعْدَلِهِمْ صُورَةً فَقَالَ الْمَلَأُ قَاتَلَ اللَّهُ أَفَّاكِي بَنِي إِسْرَائِيلَ فَكَانَتْ بَرَاءَتُهُ الَّتِي بَرَّأَهُ اللَّهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کے لوگ برہنہ ہوکر غسل کیا کرتے تھے اور ایک دوسرے کی شرمگاہوں کو دیکھا کرتے تھے جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام شرم و حیاء کی وجہ سے تنہا غسل کیا کرتے تھے بنی اسرائیل کے لوگ ان پر جسمانی کمزوری کا الزام لگانے لگے ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے کے لئے گئے تو اپنے کپڑے حسب معمول اتار کر پتھر پر رکھ دئیے وہ پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ گیا حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے پیچھے اے پتھر میرے کپڑے اے پتھر میرے کپڑے کہتے ہوئے دوڑے یہاں تک کہ وہ پتھر بنی اسرائیل کی ایک مجلس کے عین بیچ میں پہنچ کر رک گیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس سے اپنے کپڑے لے لئے اور لوگوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو وہ سب سے زیادہ حسین اور معتدل جسامت والے تھے وہ لوگ یہ دیکھ کر کہنے لگے کہ بنی اسرائیل کے تہمت لگانے والوں پر اللہ کی مار ہو یہ وہی براءت تھی جو اللہ نے فرمائی تھی۔

یہ حدیث شیئر کریں