مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 1001

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ حِينَ صَلَّيْنَا الظُّهْرَ فَدَعَا الْجَارِيَةَ بِوَضُوءٍ فَقُلْنَا لَهُ أَيُّ صَلَاةٍ تُصَلِّي قَالَ الْعَصْرَ قَالَ قُلْنَا إِنَّمَا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ الْآنَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ يَتْرُكُ الصَّلَاةَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ فِي قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ أَوْ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ صَلَّى لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا

علاء ابن عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں ایک انصاری آدمی کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ کر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا کچھ ہی دیر بعد انہوں نے باندی سے وضو کا پانی منگوایا، ہم نے ان سے پوچھا کہ اس وقت کون سی نماز پڑھ رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا نمازِ عصر، ہم نے کہا کہ ہم تو ابھی ظہر پڑھ کر آئے ہیں (عصر کی نماز اتنی جلدی؟) انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وہ منافق کی نماز ہے کہ منافق نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آجاتا ہے تو وہ نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے اور اس میں اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتا ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں