مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 1071

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ سَمِعَهُ مِنْ أَنَسٍ قَالَ سَقَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَصَلَّى قَاعِدًا وَصَلَّيْنَا قُعُودًا فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر پڑے جس سے دائیں حصے پر زخم آگیا ، ہم لوگ عیادت کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اسی دوران نماز کا وقت آگیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ہم نے بھی بیٹھ کر نماز پڑھی ، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام تو ہوتا ہی اس لئے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے ، اس لئے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو ، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو ، (جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو) جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا ولک الحمد کہو ، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔

یہ حدیث شیئر کریں