مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 1096

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ الْمُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ الشُّرْبِ فِي الْأَوْعِيَةِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُزَفَّتَةِ وَقَالَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ قَالَ قُلْتُ وَمَا الْمُزَفَّتَةُ قَالَ الْمُقَيَّرَةُ قَالَ قُلْتُ فَالرَّصَاصُ وَالْقَارُورَةُ قَالَ مَا بَأْسٌ بِهِمَا قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَهُمَا قَالَ دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ فَإِنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ قَالَ قُلْتُ لَهُ صَدَقْتَ السُّكْرُ حَرَامٌ فَالشَّرْبَةُ وَالشَّرْبَتَانِ عَلَى طَعَامِنَا قَالَ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ وَقَالَ الْخَمْرُ مِنْ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ فَمَا خَمَّرْتَ مِنْ ذَلِكَ فَهِيَ الْخَمْرُ

مختار بن نوفل رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ برتنوں میں پینے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " مزفت" سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے، میں نے پوچھا کہ مزفت سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا لک لگایا ہوا برتن، میں نے پوچھا کہ شیشی اور بوتل کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ان دونوں میں کوئی حرج نہیں ، میں نے کہا کہ لوگ تو انہیں اچھا نہیں سمجھتے؟ انہوں نے فرمایا کہ پھر جس چیز میں تمہیں شک ہو اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کرلو جس میں تمہیں کوئی شک نہ ہو، کیونکہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے، میں نے عرض کیا کہ آپ نے بجا فرمایا کہ نشہ حرام ہے، لیکن کھانے کے بعد ایک دو گھونٹ پی لینے کا کیا حکم ہے؟ فرمایا نشہ آور چیز خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ حرام ہے اور فرمایا کہ شراب انگور سے بھی بنتی ہے، کھجور، شہد، گندم، جو اور مکئی سے بھی بنتی ہے، ان میں سے جس چیز سے بھی بنے، وہ بہر حال شراب ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں