مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 1217

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَهْدَى الْأُكَيْدِرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَرَّةً مِنْ مَنٍّ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الصَّلَاةِ مَرَّ عَلَى الْقَوْمِ فَجَعَلَ يُعْطِي كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ قِطْعَةً فَأَعْطَى جَابِرًا قِطْعَةً ثُمَّ إِنَّهُ رَجَعَ إِلَيْهِ فَأَعْطَاهُ قِطْعَةً أُخْرَى فَقَالَ إِنَّكَ قَدْ أَعْطَيْتَنِي مَرَّةً قَالَ هَذَا لِبَنَاتِ عَبْدِ اللَّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اکید رومہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں " من " کا ایک مٹکا بھجوایا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر ایک جماعت پر سے گذرتے ہوئے ان میں سے ہر آدمی کو ایک ایک حصہ دینا شروع کر دیا، ان میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ بھی تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک حصہ دے دیا، پھر ان کے پاس کچھ دیر بعد واپس آکر ایک اور حصہ دیا، وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ تو آپ مجھے دے چکے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ عبداللہ کی بچیوں (تمہاری بہنوں) کا حصہ ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں