مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 1252

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُثَنَّى مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ قَالَ قَالَ هَكَذَا يَعْنِي أَنَّهُ أَخْرَجَ طَرَفَ الْخِنْصَرِ قَالَ أَبِي أَبِي أَرَانَا مُعَاذٌ قَالَ فَقَالَ لَهُ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا يَا أَبَا مُحَمَّدٍ قَالَ فَضَرَبَ صَدْرَهُ ضَرْبَةً شَدِيدَةً وَقَالَ مَنْ أَنْتَ يَا حُمَيْدُ وَمَا أَنْتَ يَا حُمَيْدُ يُحَدِّثُنِي بِهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَقُولُ أَنْتَ مَا تُرِيدُ إِلَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد ربانی " جب اس کے رب نے اپنی تجلی ظاہر فرمائی " کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ چھنگلیا کے ایک کنارے کے برابر تجلی ظاہر ہوئی۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہمیں معاذ نے انگلی کی کیفیت دکھائی، تو حمید الطویل، ان سے کہنے لگے کہ اے ابو محمد! اس سے آپ کا کیا مقصد ہے؟ انہوں نے ان کے سینے پر زور سے ایک ہاتھ مارا اور کہنے لگے کہ حمید! تم کون ہو اور کیا ہو؟ مجھ سے یہ بات حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کی ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ اس سے آپ کا مقصد کیا ہے؟

یہ حدیث شیئر کریں