حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا ابْنَ آدَمَ كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ خَيْرَ مَنْزِلٍ فَيَقُولُ سَلْ وَتَمَنَّهْ فَيَقُولُ مَا أَسْأَلُ وَأَتَمَنَّى إِلَّا أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا فَأُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اہل جنت میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ اے ابن آدم ! تو نے اپنا ٹھکا نہ کیسا پایا ؟ وہ جواب دے گا پرودگار ! بہترین ٹھکا نہ پایا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ مانگ اور تمنا ظاہر کر، وہ عرض کرے گا کہ میری درخواست اور تمنا تو صرف اتنی ہی ہے کہ آپ مجھے دنیا میں واپس بھیج دیں اور میں بیسوں مرتبہ آپ کی راہ میں شہید ہوجاؤں ، کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت دیکھ چکا ہوگا ۔
