مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 1385

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ أَتَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ذُو مَالٍ كَثِيرٍ وَذُو أَهْلٍ وَوَلَدٍ وَحَاضِرَةٍ فَأَخْبِرْنِي كَيْفَ أُنْفِقُ وَكَيْفَ أَصْنَعُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُخْرِجُ الزَّكَاةَ مِنْ مَالِكَ فَإِنَّهَا طُهْرَةٌ تُطَهِّرُكَ وَتَصِلُ أَقْرِبَاءَكَ وَتَعْرِفُ حَقَّ السَّائِلِ وَالْجَارِ وَالْمِسْكِينِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْلِلْ لِي قَالَ فَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا فَقَالَ حَسْبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا أَدَّيْتُ الزَّكَاةَ إِلَى رَسُولِكَ فَقَدْ بَرِئْتُ مِنْهَا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِذَا أَدَّيْتَهَا إِلَى رَسُولِي فَقَدْ بَرِئْتَ مِنْهَا فَلَكَ أَجْرُهَا وَإِثْمُهَا عَلَى مَنْ بَدَّلَهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنی تمیم کا ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بہت مالدار، اہل وعیال اور خاندان والا آدمی ہوں ، آپ مجھے بتائیے کہ میں کیسے خرچ کروں اور کس کام پر کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے مال کی زکوۃ نکالا کرو کہ اس سے تمہارا مال پاکیزہ ہوجائے گا اپنے قریبی رشتہ داروں سے صلہ رحمی کیا کرو، سائل، پڑوسی اور مسکینوں کو ان کا حق دیا کرو اور فضول خرچی نہ کیا کرو، وہ کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بس یہ میرے لئے کافی ہے، جب میں اپنے مال کی زکوۃ آپ کے قاصد کے حوالے کر دوں تو اللہ اور اس کے رسول کی نگاہوں میں میں بری ہو جاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! جب تم میرے قاصد کو زکوۃ ادا کر دو تو تم اس سے عہدہ برآ ہوگئے اور تمہیں اس کا اجر ملے گا اور گناہ اس کے ذمے ہوگا جو اس میں تبدیلی کر دے۔

یہ حدیث شیئر کریں