مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 1467

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ عَنْ وَفَاءٍ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نَقْرَأُ فِينَا الْعَرَبِيُّ وَالْعَجَمِيُّ وَالْأَسْوَدُ وَالْأَبْيَضُ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتُمْ فِي خَيْرٍ تَقْرَءُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَثْقَفُونَهُ كَمَا يَثْقَفُونَ الْقَدَحَ يَتَعَجَّلُونَ أُجُورَهُمْ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے، ہم میں عربی، عجمی اور کالے گورے، ہر طرح کے لوگ موجود تھے، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ تم بھلائی پر ہو (اور بہترین زمانے میں ہو) کہ تم کتاب اللہ کی تلاوت کر رہے ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے درمیان موجود ہیں ، عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں لوگ ایسے کھڑ کھڑائیں گے جیسے برتن کھڑ کھڑاتے ہیں ، وہ اپنا اجر فوری وصول کر لیں گے، آگے کے لئے کچھ نہ رکھیں گے۔

یہ حدیث شیئر کریں