حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُجَاءُ بِالْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهِ فَيَقُولُ نَعَمْ يَا رَبِّ قَالَ فَيُقَالُ لَقَدْ سُئِلْتَ أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا وَلَوْ افْتَدَى بِهِ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ایک کافر کو لا کر اس سے کہا جائے گا کہ یہ بتا، اگر تیرے پاس روئے زمین کے برابر سونا موجود ہو تو کیا وہ سب اپنے فدیئے میں دے دے گا؟ وہ کہے گا ہاں ! اللہ فرمائے گا کہ میں نے تو تجھ سے دنیا میں اس سے بھی ہلکی چیز کا مطالبہ کیا تھا، یہی مراد ہے اس ارشاد ربانی کا " بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور مر گئے جب کہ وہ کافر ہی تھے، ان میں کسی سے زمین بھر کر بھی سونا قبول نہیں کیا جائےگا گو کہ وہ اسے فدئیے میں پیش کر دے۔ "
