حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ قَوْمًا ذَكَرُوا عِنْدَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْحَوْضَ فَأَنْكَرَهُ وَقَالَ مَا الْحَوْضُ فَبَلَغَ ذَلِكَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَقَالَ لَا جَرَمَ وَاللَّهِ لَأَفْعَلَنَّ فَأَتَاهُ فَقَالَ ذَكَرْتُمْ الْحَوْضَ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهُ فَقَالَ نَعَمْ يَقُولُ أَكْثَرَ مِنْ كَذَا وَكَذَا مَرَّةً إِنَّ مَا بَيْنَ طَرَفَيْهِ كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى مَكَّةَ أَوْ بَيْنَ صَنْعَاءَ وَمَكَّةَ وَإِنَّ آنِيَتَهُ أَكْثَرُ مِنْ نُجُومِ السَّمَاءِ قَالَ حَسَنٌ وَإِنَّ آنِيَتَهُ لَأَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ذُكِرَ الْحَوْضُ عِنْدَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَاللَّهِ لَأَفْعَلَنَّ بِهِ وَلَأَفْعَلَنَّ
خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبیداللہ بن زیاد کے سامنے کچھ لوگوں نے حوضِ کوثر کا تذکرہ کیا، اس نے اس کا انکار کرتے ہوئے کہا کیسا حوض؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو فرمایا بخدا! میں اسے قائل کر کے رہوں گا، چنانچہ وہ ابن زیاد کے پاس پہنچے اور اس سے فرمایا کیا تم لوگ حوضِ کوثر کا تذکرہ کر رہے تھے؟ ابن زیاد نے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا تذکرہ کرے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے شمار مرتبہ فرماتے تھے کہ اس کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا ایلہ اور مکہ کے درمیان ہے (یا صنعاء اور مکہ کے درمیان ہے) اور اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہوں گے۔
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
