مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 2439

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ أَخْبَرَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ انْصَرَفْتُ مِنْ الظُّهْرِ أَنَا وَعُمَرُ حِينَ صَلَّاهَا هِشَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بِالنَّاسِ إِذْ كَانَ عَلَى الْمَدِينَةِ إِلَى عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ نَعُودُهُ فِي شَكْوَى لَهُ فَمَا قَعَدْنَا مَا سَأَلْنَا عَنْهُ إِلَّا قِيَامًا قَالَ ثُمَّ انْصَرَفْنَا فَدَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ وَهِيَ إِلَى جَنْبِ دَارِ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ فَلَمَّا قَعَدْنَا أَتَتْهُ الْجَارِيَةُ فَقَالَتْ الصَّلَاةَ يَا أَبَا حَمْزَةَ قَالَ قُلْنَا أَيُّ الصَّلَاةِ رَحِمَكَ اللَّهُ قَالَ الْعَصْرُ قَالَ فَقُلْنَا إِنَّمَا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ الْآنَ قَالَ فَقَالَ إِنَّكُمْ تَرَكْتُمْ الصَّلَاةَ حَتَّى نَسَيْتُمُوهَا أَوْ قَالَ نُسِّيتُمُوهَا حَتَّى تَرَكْتُمُوهَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ وَمَدَّ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْكَوْثَرِ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَوْثَرِ مِثْلَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ سَوَاءً

زیاد بن ابی زیاد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اور عمر ظہر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، یہ نماز ہشام بن اسماعیل نے لوگوں کو پڑھائی تھی، کہ اس وقت مدینے کے گورنر وہی تھے، نماز پڑھ کر ہم عمرو بن عبداللہ کی مزاج پرسی کے لئے گئے، وہاں ہم بیٹھے نہیں ، صرف کھڑے کھڑے ہی ان کا حال دریافت کیا، پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کا گھر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر کے ساتھ تھا، ابھی ہم وہاں جا کر بیٹھے ہی تھے کہ ایک باندی ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اے ابوحمزہ! نماز کا وقت ہوگیا ہے، ہم نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آپ پر نازل ہوں ، کون سی نماز؟ انہوں نے فرمایا نمازِ عصر ہم نے عرض کیا کہ ہم تو ظہر کی نماز ابھی پڑھ کر آئے ہیں ، انہوں نے فرمایا تم نے نماز کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ تم نے اسے بھلا دیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح ایک ساتھ بھیجا گیا ہے، یہ کہہ کر اپنی شہادت والی اور درمیان والی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے اسے دراز کیا۔
حدیث نمبر (١٣٥٠٩) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں