مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 2540

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا هَارُونُ قَالَ ابْنُ وَهْبٍ وَحَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ حَفْصَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ الْمُنَافِقِ يَدَعُ الْعَصْرَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ أَوْ عَلَى قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَهَا نَقَرَاتِ الدِّيكِ لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں منافق کی نماز کے متعلق نہ بتاؤں ؟ منافق نماز عصر کو چھوڑے رکھتا ہے، حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آجاتا ہے تو وہ نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے اور چار ٹھونگیں مار کر اس میں اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتا ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں