حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ قَالَ أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ اسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْمَطَرِ أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُذِنَ لَهُ فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ احْفَظِي عَلَيْنَا الْبَابَ لَا يَدْخُلْ أَحَدٌ فَجَاءَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَوَثَبَ حَتَّى دَخَلَ فَجَعَلَ يَصْعَدُ عَلَى مَنْكِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ أَتُحِبُّهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ تَقْتُلُهُ وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ قَالَ فَضَرَبَ بِيَدِهِ فَأَرَاهُ تُرَابًا أَحْمَرَ فَأَخَذَتْ أُمُّ سَلَمَةَ ذَلِكَ التُّرَابَ فَصَرَّتْهُ فِي طَرَفِ ثَوْبِهَا قَالَ فَكُنَّا نَسْمَعُ يُقْتَلُ بِكَرْبَلَاءَ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بارش کے ذمے دار فرشتے نے اللہ تعالیٰ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی، اللہ تعالیٰ نے اسے اجازت دے دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ دروازے کا خیال رکھو کہ ہمارے پاس کوئی اندر نہ آنے پائے، تھوڑی دیر میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ آئے اور گھر میں داخل ہونا چاہا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں روکا تو وہ کود کر اندر داخل ہوگئے اور جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر، مونڈھوں اور کندھوں پر بیٹھنے لگے، اس فرشتے نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا آپ کو اس سے محبت ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! تو فرشتے نے کہا کہ یاد رکھئے! آپ کی امت اسے قتل کر دے گی، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ جگہ بھی دکھا سکتا ہوں جہاں یہ شہید ہوں گے، یہ کہہ کر فرشتے نے اپنا ہاتھ مارا تو اس کے ہاتھ میں سرخ رنگ کی مٹی آگئی، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وہ مٹی لے کر اپنے دوپٹے میں باندھ لی۔
