مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 2751

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ كَلَامٌ فَقَالَ خَالِدٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ تَسْتَطِيلُونَ عَلَيْنَا بِأَيَّامٍ سَبَقْتُمُونَا بِهَا فَبَلَغَنَا أَنَّ ذَلِكَ ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دَعُوا لِي أَصْحَابِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنْفَقْتُمْ مِثْلَ أُحُدٍ أَوْ مِثْلَ الْجِبَالِ ذَهَبًا مَا بَلَغْتُمْ أَعْمَالَهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ تلخی ہوگئی تھی، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عوف رضی اللہ عنہ سے کہیں فرما دیا تھا کہ آپ لوگ ہم پر ان ایام کی وجہ سے لمبے ہونا چاہتے ہیں جن میں آپ ہم پر اسلام لانے میں سبقت لے گئے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ میرے صحابہ رضی اللہ عنہ کو میرے لئے چھوڑ دو، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر تم احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دو تو ان کے اعمال کے برابر نہیں پہنچ سکتے۔

یہ حدیث شیئر کریں