مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 2919

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يُتَّهَمُ بِامْرَأَةٍ فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا لِيَقْتُلَهُ فَوَجَدَهُ فِي رَكِيَّةٍ يَتَبَرَّدُ فِيهَا فَقَالَ لَهُ نَاوِلْنِي يَدَكَ فَنَاوَلَهُ يَدَهُ فَإِذَا هُوَ مَجْبُوبٌ لَيْسَ لَهُ ذَكَرٌ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَمَجْبُوبٌ مَا لَه مِنْ ذَكَرٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص پر ایک عورت کے ساتھ بدکاری کا الزام لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ جا کر اسے قتل کر دیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے پاس پہنچے تو وہ ایک کنویں میں اتر کر ٹھنڈک حاصل کر رہا تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ اپنا ہاتھ مجھے پکڑاؤ، اس نے اپنا ہاتھ پکڑایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ اس کی تو مردانہ علامت ہی نہیں ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ واپس آگئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ تو مفلوج الذکر ہے، اس کی تو مردانہ علامت ہی نہیں ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں