مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 942

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا يَأْتِي عَلَيْنَا أَمِيرٌ إِلَّا وَهُوَ شَرٌّ مِنْ الْمَاضِي وَلَا عَامٌ إِلَّا وَهُوَ شَرٌّ مِنْ الْمَاضِي قَالَ لَوْلَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقُلْتُ مِثْلَ مَا يَقُولُ وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أُمَرَائِكُمْ أَمِيرًا يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا وَلَا يَعُدُّهُ عَدًّا يَأْتِيهِ الرَّجُلُ فَيَسْأَلُهُ فَيَقُولُ خُذْ فَيَبْسُطُ الرَّجُلُ ثَوْبَهُ فَيَحْثِي فِيهِ وَبَسَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِلْحَفَةً غَلِيظَةً كَانَتْ عَلَيْهِ يَحْكِي صَنِيعَ الرَّجُلِ ثُمَّ جَمَعَ إِلَيْهِ أَكْنَافَهَا قَالَ فَيَأْخُذُهُ ثُمَّ يَنْطَلِقُ

ابوالوداک کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ بخدا! ہمارا جو بھی حکمران آتا ہے وہ پہلے سے بدتر ہوتا ہے اور ہر آنے والا سال پچھلے سال سے سے بدتر ہوتا ہے۔ انہوں نے فرمایا اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث نہ سنی ہوتی تو میں بھی یہی کہتا لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارے حکمرانوں میں ایک خلیفہ ہوگا، جو لوگوں کو شمار کئے بغیر خوب مال و دولت عطاء کیا کرے گا۔ ایک آدمی اس کے پاس آکر سوال کرے گا وہ اس سے کہے گا کہ اٹھالو، وہ ایک کپڑا بچھائے گا اور خلیفہ اس میں دونوں ہاتھوں سے بھر بھر کر مال ڈالے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی موٹی چادر اتار کی اس کی کیفیت عملی طور پر پیش کر کے دکھائی، پھر اسے اکٹھا کر لیا اور فرمایا کہ وہ آدمی اسے لے کر چلا جائے گا۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ منورہ میں جنات کے ایک گروہ نے اسلام قبول کرلیا ہے، اس لئے اگر تم میں سے کوئی شخص کسی سانپ کو دیکھے تو اسے تین مرتبہ ڈرائے، پھر بھی اگر اسے مارنا مناسب سمجھے تو تیسری مرتبہ کے بعد مارے کیونکہ وہ شیطان ہے۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تو ہمیشہ ایک صاع کھجور یا جو، پنیر یا کشمش ہی صدقہ فطر کے طور پر ادا کروں گا۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جمعہ کے دن مسجد نبوی میں داخل ہوا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بلا کر دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا، پھر یکے بعد دیگرے دو آدمی اور آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی یہی حکم دیا۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گذرنے دے، اور حتی الامکان اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑے کیوں کہ وہ شیطان ہے۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے مال آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ لوگوں میں تقسیم فرما دیا، اسی دوران قریش کا ایک آدمی آیا اور اس نے بھی سوال کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی کپڑے یا چادر کے ایک کونے میں لپیٹ کر دے دیا، لیکن اس نے مزید کا مطالبہ کیا، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ایک باندی ہے میں اس سے عزل کرتا ہوں ، میں وہی چاہتا ہوں جو ایک مرد چاہتا ہے اور میں اس کے حاملہ ہونے کو اچھا نہیں سمجھتا اور یہودی کہا کرتے ہیں کہ عزل زندہ درگور کرنے کی ایک چھوٹی سی صورت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی غلط کہتے ہیں ، اگر اللہ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کر لے تو کسی میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ اس کی راہ میں رکاوٹ بن سکے۔

یہ حدیث شیئر کریں