مسند احمد ۔ جلد ششم ۔ حدیث 1077

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ حَدِيقَتَيْنِ وَلِيَهُودِيٍّ عَلَيْهِ تَمْرٌ وَتَمْرُ الْيَهُودِيِّ يَسْتَوْعِبُ مَا فِي الْحَدِيقَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ الْعَامَ بَعْضًا وَتُؤَخِّرَ بَعْضًا إِلَى قَابِلٍ فَأَبَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَضَرَ الْجِدَادُ فَآذِنِّي قَالَ فَآذَنْتُهُ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَجَعَلْنَا نَجِدُّ وَيُكَالُ لَهُ مِنْ أَسْفَلِ النَّخْلِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِالْبَرَكَةِ حَتَّى أَوْفَيْنَاهُ جَمِيعَ حَقِّهِ مِنْ أَصْغَرِ الْحَدِيقَتَيْنِ فِيمَا يَحْسِبُ عَمَّارٌ ثُمَّ أَتَيْنَاهُمْ بِرُطَبٍ وَمَاءٍ فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا ثُمَّ قَالَ هَذَا مِنْ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام شہید ہوئے تو ان پر ایک یہودی کا کھجور کا کچھ قرض تھا وہ ترکے میں دو باغ چھوڑ گئے تھے ان دونوں کے سارے پھل کو یہودی کا قرض گھیرے ہوئے تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی سے فرمایا کیا یہ ممکن ہے کہ تم کچھ کھجور اس سال لے لو اور کچھ اگلے سال کے لئے موخر کردو اس نے انکار کردیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کھجور کاٹنے کا وقت آئے تو مجھے بلا لو میں نے ایسا ہی کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرات شیخین کے ہمراہ تشریف لائے اور سب سے اوپر یا درمیان تشریف فرما ہوئے اور مجھ سے فرمایا لوگوں کو ناپ کردینا شروع کردو اور خود دعا کرنے لگے چنانچہ میں نے سب کو ناپ کر دینا شروع کردیا حتی کہ چھوٹے باغ ہی سے سب کا قرض پورا ہو گیا اس کے بعد میں نے کھانے کے لئے تر کھجوریں اور پینے کے لئے پانی پیش کیا انہوں نے اسے کھایا پیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے متعلق قیامت کے دن تم سے پوچھا جائے گا۔

یہ حدیث شیئر کریں