مسند احمد ۔ جلد ششم ۔ حدیث 1298

حضرت حارث بن عبداللہ بن اوس۔

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ قَالَ سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنْ الْمَرْأَةِ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ تَحِيضُ قَالَ لِيَكُنْ آخِرَ عَهْدِهَا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ فَقَالَ الْحَارِثُ كَذَلِكَ أَفْتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَدَّيْتَ عَنْ يَدَيْكَ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكِنِّي مَا أُخَالِفُ

حضرت حارث بن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر سے اس عورت کا حکم پوچھا جو بیت اللہ کا طواف کر رہی تھی پھر اسے ایام آگئے انہوں نے فرمایا کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف ہونا چاہیے حضرت حارث نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہی مسئلہ بتایا تھا حضرت عمر نے انہیں سخت سست کہا اور فرمایا کہ تم مجھ سے اس چیز کے متعلق دریافت کر رہے ہو جس کے متعلق تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرچکے ہو لیکن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔

یہ حدیث شیئر کریں