حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ وَأَبُو شِهَابٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ قَالَ مَا كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ يُؤَذِّنُ إِذَا قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَيُقِيمُ إِذَا نَزَلَ وَأَبُو بَكْرٍ كَذَلِكَ وَعُمَرُ كَذَلِكَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا
حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں صرف ایک مؤذن مقرر تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر بیٹھنے کے بعد اذان دیتا تھا اور منبر سے اترنے کے بعد اقامت بھی وہی کہتا تھا حضرت صدیق اکبر اور حضرت عمر کے زمانے تک ایسا ہی ہوتا رہا۔
