حضرت کعب بن مالک انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ دَخَلَ أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ فَقَالَ يَا أَبَا حَفْصٍ حَدِّثْنَا حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ فِيهِ اخْتِلَافٌ قَالَ حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَادَ مَرِيضًا خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ فَإِذَا جَلَسَ عِنْدَهُ اسْتَنْقَعَ فِيهَا وَقَدْ اسْتَنْقَعْتُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فِي الرَّحْمَةِ
ایک مرتبہ ابوبکر بن محمد عمر بن حکم کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ اے ابوحفص ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ایسی حدیث سناؤ جس میں کسی کا کوئی اختلاف نہ ہو اور وہ کہنے لگے کہ مجھ سے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ ھدیث بیان کی ہے کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی ریض کی عیادت کرتا ہے وہ رحمت کے سمندر میں غوطہ لگاتا ہے اور جب مریض کے پاس جا کر بیٹھ جاتا ہے تو اس میں ڈوب جاتا ہے اور امید ہے کہ انشاء اللہ تم بھی رحمت میں ڈوب گئے ہو۔
