حضرت حبہ اور سواء کی حدیثیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَلَّامِ بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنْ حَبَّةَ وَسَوَاءَ ابْنَيْ خَالِدٍ قَالَا دَخَلْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصْلِحُ شَيْئًا فَأَعَنَّاهُ فَقَالَ لَا تَأْيَسَا مِنْ الرِّزْقِ مَا تَهَزَّزَتْ رُءُوسُكُمَا فَإِنَّ الْإِنْسَانَ تَلِدُهُ أُمُّهُ أَحْمَرَ لَيْسَ عَلَيْهِ قِشْرَةٌ ثُمَّ يَرْزُقُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت حبہ اور سواء جو خالد کے بیٹے ہیں کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ کوئی چیز ٹھیک کررہے تھے لیکن اس نے آپ کو تھکادیا آپ نے ہم سے فرمایا کہ جب تک تمہارے سر حرکت کر سکتے ہیں کبھی بھی رزق سے مایوس نہ ہونا کیونکہ انسان کو اس کی ماں جنم دیتی ہے تو وہ چوزے کی طرح ہوتا ہے جس پر کوئی چھلکا نہیں ہوتا اس کے بعد اللہ اسے رزق عطا فرماتا ہے۔
