مسند احمد ۔ جلد ششم ۔ حدیث 1812

حضرت سہل بن حنیف کی مرویات۔

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قَالَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ نَسْتَطِيعُ أَنْ نَرُدَّ أَمْرَهُ لَرَدَدْنَاهُ وَاللَّهِ مَا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَنْ عَوَاتِقِنَا مُنْذُ أَسْلَمْنَا لِأَمْرٍ يُفْظِعُنَا إِلَّا أَسْهَلَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ إِلَّا هَذَا الْأَمْرَ مَا سَدَدْنَا خَصْمًا إِلَّا انْفَتَحَ لَنَا خَصْمٌ آخَرُ

حضرت سہل بن حنیف سے مروی ہے کہ اپنی رائے کو ہمیشہ صحیح نہ سمجھا کرو میں نے ابوجندل والا دن دیکھا ہے اگر ہم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حکم کو ٹالنے کی ہمت ہوتی تو اس دن ٹال دیتے واللہ اسلام قبول کرنے کے بعد جب بھی ہم نے کسی پریشان کن معاملے میں اپنے کندھوں سے تلواریں اتاریں وہ ہمارے لئے آسان ہوگیا سوائے اس معاملے کے کہ جب بھی ہم ایک فریق کا راستہ بند کرتے ہیں تو دوسرے کا راستہ کھل جاتا ہے ۔

یہ حدیث شیئر کریں