حضرت ابومویھبہ کی حدیث۔
قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ رَاشِدِ بْنِ حُبَيْشٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ يَعُودُهُ فِي مَرَضِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَعْلَمُونَ مَنْ الشَّهِيدُ مِنْ أُمَّتِي فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ عُبَادَةُ سَانِدُونِي فَأَسْنَدُوهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّابِرُ الْمُحْتَسِبُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ شَهَادَةٌ وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ وَالنُّفَسَاءُ يَجُرُّهَا وَلَدُهَا بِسُرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ قَالَ وَزَادَ فِيهَا أَبُو الْعَوَّامِ سَادِنُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَالْحَرْقُ وَالسَّيْلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ صَاحِبٍ لَهُ عَنْ رَاشِدِ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ يَعُودُهُ فِي مَرَضِهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حضرت راشد بن حبیش سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبادہ بن صامت کی عیادت کے لئے ان کے یہاں تشریف لائے تو فرمایا کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ میری امت کے شہید کون لوگ ہیں لوگ خاموش رہے حضرت عبادہ نے لوگوں سے کہا کہ مجھے سہارادے کر بٹھادو لوگوں نے بٹھادیا وہ کہنے لگے یا رسول اللہ جو شخص صابر اور اس پر ثواب کی نیت رکھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے رہ جائیں گے اللہ کے راستے میں قتل ہوجانا بھی شہادت ہے طاعون میں مرجانا بھی شہادت ہے دریا میں غرق ہوجانا بھی اور پیٹ کی بیماری میں بھی مرناشہادت ہے اور نفاس کی حالت میں مرنے والی عورت کا اس کا بچہ اپنے ہاتھ سے کھینچ کر جنت میں لے جائے گا ابوعوام نامی راوی نے اس میں بیت المقدس کے کنجی برادر جل کرمرنے والے اور سیلاب میں مرنے والوں کو بھی شامل کیا ہے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
