مسند احمد ۔ جلد ششم ۔ حدیث 1856

حضرت ربیعہ بن عباد دیلی کی حدیثیں ۔

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِيهِ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ رَبِيعَةُ بْنُ عَبَّادٍ الدِّيلِيُّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُرُّ فِي فِجَاجِ ذِي الْمَجَازِ إِلَّا أَنَّهُمْ يَتْبَعُونَهُ وَقَالُوا هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ وَرَجُلٌ أَحْوَلُ وَضِيءُ الْوَجْهِ ذُو غَدِيرَتَيْنِ يَتْبَعُهُ فِي فِجَاجِ ذِي الْمَجَازِ وَيَقُولُ إِنَّهُ صَابِئٌ كَاذِبٌ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ

حضرت ربیعہ سے مروی ہے کہ میں نے نوجوانی میں اپنے والد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی المجاز نامی بازار میں لوگوں کے مختلف قبیلوں میں جاجا کر ان کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے ہوئے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک بھینگا آدمی بھی تھا اس کی رنگت اجلی اور بال لمبے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبیلے کے پاس جا کر رکتے اور فرماتے اے بنی فلاں میں تمہاری طرف اللہ کا پیغمبر ہوں میں تمہیں حکم دیتاہوں کہ اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ میری تصدیق کرو اور میری حفاظت کروتاکہ اللہ کا پیغام پہنچاسکوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی بات سے فارغ ہوتے تو وہ آدمی پیچھے سے کہتا اے بنوفلاں یہ شخص چاہتاکہ تم سے لات عزی اور تمہارے حلیف قبیلوں کو چھڑا دے اور اپنے نوایجاد دین کی طرف تمہیں لے جائے اس لئے تم اس کی بات نہ سننا اور نہ اس کی پیروی کرنا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ یہ پیچھے والا بھینگا آدمی کون ہے لوگوں نے بتایا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ابولہب ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں