حضرت محمد بن مسلمہ کی بقیہ حدیث۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ مَرَرْتُ بِالرَّبَذَةِ فَإِذَا فُسْطَاطٌ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا فَقِيلَ لِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ رَحِمَكَ اللَّهُ إِنَّكَ مِنْ هَذَا الْأَمْرِ بِمَكَانٍ فَلَوْ خَرَجْتَ إِلَى النَّاسِ فَأَمَرْتَ وَنَهَيْتَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ سَتَكُونُ فِتْنَةٌ وَفُرْقَةٌ وَاخْتِلَافٌ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأْتِ بِسَيْفِكَ أُحُدًا فَاضْرِبْ بِهِ عُرْضَهُ وَاكْسِرْ نَبْلَكَ وَاقْطَعْ وَتَرَكَ وَاجْلِسْ فِي بَيْتِكَ فَقَدْ كَانَ ذَلِكَ وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً فَاضْرِبْ بِهِ حَتَّى تَقْطَعَهُ ثُمَّ اجْلِسْ فِي بَيْتِكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ أَوْ يُعَافِيَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ كَانَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي بِهِ ثُمَّ اسْتَنْزَلَ سَيْفًا كَانَ مُعَلَّقًا بِعَمُودِ الْفُسْطَاطِ فَاخْتَرَطَهُ فَإِذَا سَيْفٌ مِنْ خَشَبٍ فَقَالَ قَدْ فَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّخَذْتُ هَذَا أُرْهِبُ بِهِ النَّاسَ قَالَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ مَرَرْنَا بِالرَّبَذَةِ فَإِذَا فُسْطَاطٌ مَضْرُوبٌ فَذَكَرَهُ قَالَ إِنَّهُ سَتَكُونُ فِتْنَةٌ وَفُرْقَةٌ فَاضْرِبْ بِسَيْفِكَ عُرْضَ أُحُدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ مَرَرْنَا بِالرَّبَذَةِ فَإِذَا فُسْطَاطٌ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ابوبردہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مقام ربذہ سے گذر رہا تھا کہ وہاں ایک خیمہ دیکھا لوگوں سے پوچھا کہ یہ خیمہ کسی کا ہے لوگوں نے بتایا کہ محمد بن مسلمہ کا ہے میں نے وہاں پہنچ کر ان سے اجازت طلب کی اور اندرچلا گیا اور ان سے عرض کیا کہ اللہ آپ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے آپ اس معاملے میں کٹ کر اس جگہ بیٹھے ہوئے ہیں آپ لوگوں میں نکل کر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب فتنے، تفرقے، اور اختلافات ہوں گے جب ایساہونے لگے تو تم اپنی تلوار لے کراحد پہاڑ کے پاس جانا اور اسے چوڑائی سے لے کر پہاڑ پردے مارنا اس کا پھل توڑ دینا اپنی کمان توڑ دینا اور اپنے گھر بیٹھ جانا اور اب ایسا ہوگیا ہے ارو میں نے وہی کام کیا ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو حکم دیا تھا پھر انہوں نے ایک تلوار اتاری جو خیمے کے ستون کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی انہوں نے اسے بے نیام کیا تو وہ لکڑی کی تلوار تھی وہ کہنے لگے کہ میں نے کیا تو ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا اور یہ میں نے اس لئے بنوائی ہے کہ لوگوں کو اس سے ڈرا سکوں پھر میرے پاس بھی تلوار ہے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
