مسند احمد ۔ جلد ششم ۔ حدیث 1888

حضرت ابواسید ساعدی کی حدیثیں

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ مُوسَى بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُبَابِ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُنَيْسٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ تَذَاكَرُوا هُوَ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَوْمًا الصَّدَقَةَ فَقَالَ عُمَرُ أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ ذَكَرَ غُلُولَ الصَّدَقَةِ إِنَّهُ مَنْ غَلَّ مِنْهَا بَعِيرًا أَوْ شَاةً أُتِيَ بِهِ يَحْمِلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ بَلَى

حضرت عبداللہ بن انیس سے مروی ہے کہ ایک دن وہ اور حضرت عمر صدقہ کے حوالے سے مذاکرہ کررہے تھے حضرت عمر کہنے لگے کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صدقات میں خیانت کا ذکر کرنے کے دوران یہ فرماتے ہوئے سنا نہیں ہے کہ جو شخص ایک بکری یا اونٹ بھی خیانت کرلیتا ہے اسے قیامت کے دن اس حال میں لایا جائے گا کہ وہ اسے اٹھائے ہوئے ہوگا حضرت عبداللہ بن انیس نے فرمایا کیوں نہیں۔

یہ حدیث شیئر کریں