مسند احمد ۔ جلد ششم ۔ حدیث 1934

حضرت عبداللہ بن زبیر بن عوام کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَارِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ قَالَ حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَدِمَتْ قُتَيْلَةُ ابْنَةُ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ عَبْدِ أَسْعَدَ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حَسَلٍ عَلَى ابْنَتِهَا أَسْمَاءَ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ بِهَدَايَا ضِبَابٍ وَأَقِطٍ وَسَمْنٍ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فَأَبَتْ أَسْمَاءُ أَنْ تَقْبَلَ هَدِيَّتَهَا وَتُدْخِلَهَا بَيْتَهَا فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنْهَاكُمْ اللَّهُ عَنْ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ فَأَمَرَهَا أَنْ تَقْبَلَ هَدِيَّتَهَا وَأَنْ تُدْخِلَهَا بَيْتَهَا

حضرت ابن زیبر سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ قتیلہ بنت عبدالعزی اپنی بیٹی حضرت اسماء بنت ابی بکر کے پاس حالت کفر و شرک میں کچھ ہدایا لے کر مثلا گوہ ، پنیر، اور گھی لے کر آئی حضرت اسماء نے اس کے تحائف قبول کرنے سے انکار کردیا اور انہیں اپنی والدہ کا حالت شرک میں گھر میں داخل ہونا بھی اچھا نہ لگا حضرت عائشہ نے یہ مسئلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو اللہ نے یہ آیت نازل کردی کہ اللہ تمہیں ان لوگوں سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے قتال نہیں کیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی والدہ کا ہدیہ قبول کر لینے اور انہیں اپنے گھر میں بلالینے کا حکم دیا۔

یہ حدیث شیئر کریں