مسند احمد ۔ جلد ششم ۔ حدیث 2011

حضرت ابورزین لقیط بن عامر کی مرویات۔

قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ وَكِيعَ بْنَ حُدُسٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ رُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ أَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ وَهِيَ عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ يُحَدِّثْ بِهَا فَإِذَا حَدَّثَ بِهَا وَقَعَتْ قَالَ أَظُنُّهُ قَالَ لَا يُحَدِّثُ بِهَا إِلَّا حَبِيبًا أَوْ لَبِيبًا

حضرت ابورزین سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا خواب پرندے کے پاؤں پر ہوتا ہے تاوقتیکہ اس کی تعبیر نہ دی جائے اور جب تعبیر دے دی جائے تو وہ اسی کے موافق پورا ہوجاتا ہے اور فرمایا کہ خواب اجزاء نبوت میں سے چالیسواں جزو ہے اور غالباً یہ بھی فرمایا کہ خواب صرف اسی شخص کے سامنے بیان کیا جائے جو محبت کرنے والا ہو یا اس معاملے میں رائے دے سکتاہو۔

یہ حدیث شیئر کریں